21

قصور میں معصوم بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل انتہائی شرمناک اور قابل مذمت فعل ہے. اس گھناوَنے فعل کا مرتکب درندہ سخت سے سخت سزا کا مستحق ہے.پیر سید علی رضا بخاری

ممبر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی وسجادہ نشین درگاہ بساہا.ں شریف پیر سید علی رضا بخاری نے کہا کہ قصور میں معصوم بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل انتہائی شرمناک اور قابل مذمت فعل ہے. اس گھناوَنے فعل کا مرتکب درندہ سخت سے سخت سزا کا مستحق ہے۔ متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ظالم کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔جمعرات کو نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیر علی رضا نے کہا کہ یہ واقعہ دل خراش ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی ضمیروں کو جھنجھوڑ نے والا ہے اس واقعہ پر ہر پاکستانی ماں باپ،بھائی اور بہن اشک بہا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا دردناک عکس ہے جس کو دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ مستقبل میں ایس واقعات نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کی بڑی تعداد ان کے رشتے داروں اور جاننے والوں پر مشتمل ہوتی ہے،گھروں میں بطور ملازم کام کرنے والے بچوں کے حوالے سے متعلقہ بل کو منظور کروا کر اس پر عمل درآمد کرایا جائے جبکہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کو صوبائی اور قومی سطح پر نافذ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے معلومات کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہییاور پیشہ ورانہ طریقے سے بچوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، سکول کونسلروں اور پولیس میں شعور اجاگر کرنیاور تربیت دینے کی سخت ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ننھی زینب کے باعث مذمت اور دردناک ریپ اور قتل نے ایک بار پھر اس بات سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کو کیسے خطرات لاحق ہیں۔ ہمیں مجرموں کو سزا دینے کے لیے تیزی دکھانا ہوگی اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے بچے محفوظ ہیں۔’انہوں نے کہا کہ میں والدین اور اساتذہ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ بچوں کو سکھایا جائے کہ وہ جنسی استحصال کے خلاف مزاحمت کریں اور اسے رپورٹ کریں۔انہوں نے کہا کہ ایک تازہ سرویرپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 11 بچے جنسی زیادتی کا شکار بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والیایک غیر سرکاری ادارے نے جاری کیے ہیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2016 کے دوران بچوں سے جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ادارہ کہتا ہے کہ گذشتہ برس بچوں سے جنسی زیادتی سمیت اغوا، گمشدگی اور جبری شادیوں کے 4139 کیس رجسٹرڈ ہوئے اور یہ تعداد 2015 کے مقابلیمیں دس فیصد زیادہ ہے۔کروؤل نمبرز′ یا ‘ظالمانہ اعداد و شمار’ کے عنوان سے شایع کی جانے والی اس رپورٹ کے لیے ادارے نے86 قومی، علاقائی اور مقامی اخبارات کی نگرانی کی۔گذشتہ برس بچوں کے خلاف کیے گئے جو بڑے جرائم رپورٹ ہوئے اُن میں اغوا کے 1455 کیس، ریپ کے 502 کیس، بچوں کے ساتھ بدفعلی کے 453 کیس، گینگ ریپ کے 271 کیس، اجتماعی زیادتی کے 268 کیس جبکہ زیادتی یا ریپ کی کوشش کے 362 کیس سامنے آئے۔ان واقعات میں سب سے زیادہ سنگین جرم زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کا قتل ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ جنسی حملوں کے بعد قتل کے کُل 100 واقعات سامنے آئے۔ادارے کی تحقیقات کیمطابق بچوں سیجنسی زیادتی اور تشدد کرنے والے مجرمان میں گھر کے اندر کے افراد، رشتہ دار اور واقفِ کار بھی ہو سکتے ہیں۔گذشتہ سال بھی بچوں پر تشدد کرنے والوں میں زیادہ تعداد ان افراد کی تھی جو بچوں کو جانتے تھے۔ ان کی تعداد1765 ہے۔ 798اجنبی، 589ا جنبی واقف کار، 76 رشتہ دار، 64 پڑوسی، 44 مولوی، 37 اساتذہ اور 28 پولیس والے بھی بچوں پر جنسی تشدد میں ملوث پائے گئے۔ادارے نے ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘یہ لوگ بچوں کو پھسانے کے لیے تحائف کی پیشکش کرتے ہیں، اُن سے محبت کا اظہار اور مختلف کاموں میں اُن کی مدد بھی کرتے ہیں۔ جنسی زیادتی میں کامیابی کے بعد یہ افراد بچوں پر اس راز کو خفیہ رکھنے کے لئے دباؤ بھی ڈالتے ہیں۔’رپورٹ کے مطابق سال 2016 میں پاکستان کے دیہی علاقوں سے 76 فیصد جبکہ شہری علاقوں سے 24 فیصد واقعات رپورٹ ہوئے۔ان میں زیادتی کے واقعات کی شرح کچھ یوں رہی: پنجاب میں 2676، سندھ میں 987، بلوچستان میں 166، اسلام آباد میں 156، خیبر پختونخوا میں 141، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نو، اور گلگت بلتستان سے چار واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ اس سال فاٹا سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 11 سے 18 سال کے بچے سب سے زیادہ اغواہوئے۔ 16 سے 18 سال کی لڑکیوں کے اغوا کے واقعات میں اضافہ جبکہ لڑکوں کے اغوا کے واقعات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔کم عمری کی شادی کے کُل 176 واقعات میں سے 112 صوبہ سندھ میں جبکہ 43 پنجاب میں رپورٹ ہوئے۔ادارے نے ذرائع ابلاغ میں متاثرہ بچوں کی شناخت ظاہر کرنے پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ملک میں خبر کی رپورٹنگ کے بارے میں ضابط? اخلاق موجود ہونے کے باوجود 47 فیصد بچوں کے نام، 23 فیصد بچوں کے والدین کے نام جبکہ چھ فیصد واقعات میں نام کے ساتھ تصاویر بھی شائع کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق تشویش ناک بات یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کی بڑی تعداد ان کے رشتے داروں اور جاننے والوں پر مشتمل ہوتی ہیادارے نے اپنی تجاویز میں اس بات پر زور دیا ہے کہ گھروں میں بطور ملازم کام کرنے والے بچوں کے حوالے سے متعلقہ بل کو منظور کروا کر اس پر عمل درآمد کرایا جائے جبکہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کو صوبائی اور قومی سطح پر نافذ کیا جائے۔اس کے علاوہ ادارے کے مطابق بچوں کے تحفظ کے حوالے سے معلومات کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے اور پیشہ ورانہ طریقے سے بچوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، سکول کونسلروں اور پولیس میں شعور اجاگر کرنیاور تربیت دینے کی سخت ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں