ایئر ہوسٹس نے بات نہ ماننے پر 8مسافروں کو طیارے سے نکال دیا

نیویارک…. فضائی میزبانوں کا کام مسافروں کو ہر قسم کی سہولتیں فراہم کرنا ہوتا ہے مگر تجربے میں یہ بھی آیا ہے کہ بہت سے فضائی میزبان جن میں مرد اسٹیورڈز اور خاتون ایئر ہوسٹس شامل ہیں کبھی کبھار اپنا دماغ جیسے استعمال ہی نہیں کرتے اور ذرا ذرا سی بات پر ایسی حرکتیں کر بیٹھتے ہیں جو انہیں کبھی نہیں کرنی چاہئیں۔ تازہ ترین اطلاع اس حوالے سے یہ ہے کہ ایک فضائی میزبان نے بات نہ ماننے پر 8مسافروںکو دھکے مار کر طیارے سے باہر نکال دیا۔ عینی شاہدین کا کہناہے کہ اس فضائی میزبان نے مسافروں کو یہ کہا تھا کہ وہ اپنے فون کی آواز کم کریں مگر یہی بات مسافروں کو بری لگی اور پھر جھگڑا شروع ہوگیا۔ ایئر ہوسٹس کی بات نہ ماننے والی خاتون روبن راجرز 23جون کو انڈیانا سے نیویارک جارہی تھی۔ جس کے دوران یہ واقعہ پیش آیا۔ کہا جاتا ہے کہ روبن نے فلائٹ اٹینڈنٹ کی ہدایت پر عمل بھی کیا مگر اسی دوران دوسرے مسافر روبن راجرز کی حمایت میں سامنے آگئے اور پھر جھگڑا شروع ہوگیا جس کے دوران ایک نوعمر لڑکے سمیت 8مسافروں کو دھکے مار کر طیارے سے اتار دیا گیا۔ ڈیلٹا ایئر لائن کے طیارے میں ہونے والے اس واقعہ کی وڈیو دوسرے مسافروں نے اتار کر جاری کردی ہے جو مسلسل موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ روبن راجرز کا کہناہے کہ غصہ اور بدتمیزی کا مظاہرہ کرنے والی فلائٹ اٹینڈنٹ اس کے سر پر سوار ہوگئی تھی اور جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے فون کی آواز کم کرنے کیلئے کہہ رہی تھی جو وہ پہلے ہی کم کرچکی تھی۔ وڈیو انسٹاگرام پر وائرل ہوگئی ہے۔ روبن کے ساتھ والی نشست پر بیٹھی خاتون کا بھی یہی کہناتھا کہ زیادتی فلائٹ اٹینڈنٹ کی تھی اور وہ بلا وجہ آپے سے باہر ہوگئی تھی۔ اب تک معلوم نہیں ہوسکا کہ ڈیلٹا انتظامیہ اس حرکت کی ذمہ دار اٹینڈنٹ کے خلاف کوئی کارروائی کررہی ہے یا نہیں مگر طیارے کے دیگر مسافروں کی طرف سے ڈیلٹا کو مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.