اتنا سیاسی یتیم نہیں کہ مریم کے ماتحت کام کروں چوہدری نثاربھڑک اٹھے

کبھی کسی فارورڈبلاک کاحصہ نہیں بنوں گا،1990میں پارٹی میں شمولیت اختیارکرنیوالی شخصیت چاہتی ہے مجھے پارٹی سے نکالاجائے
پارٹی کے معاملات پارٹی کے اندر حل ہونے چاہئیں،اب جماعت کے باہربھی سیاسی طورپرمتحرک رہوں گا،سابق وزیرداخلہ کی پریس کانفرنس
ٹیکسلا (کشمیرلنک نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے بارے میں میرا یہ کہنا کہ ہم ان سے لڑائی نہیں چاہتے یہ میرا اکیلے کا کہنا نہیں تھا بلکہ شاہد خاقان عباسی کا بھی یہ ہی موقف ہے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر الزام جھوٹا ہے اس کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے، 1990میں پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والی شخصیت چاہتی ہے کہ مجھے پارٹی سے الگ کیا جائے، وزیراعظم کے عہدے کیلئے نامزدگی الیکشن کے بعد ممکن ہے،میں مریم نواز کے ماتحت سیاست نہیں کر سکتا،ذوالفقار علی بھٹو سیاسی انقلاب لائے، میڈیا میں ریٹنگ کیلئے گالی گلوچ اور برا بھلا کہنا وطیرہ بن گیا ہے، ہم سیاستدان اپنے آپ کو سیاستدان کہلواتے ہیں جبکہ دوسروں کو چور اور ڈاکو قرار دلواتے ہیں۔وہ ہفتہ کو ٹیکسلا میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میں چند ماہ سے دیکھتا ہوں پر کم بولتا ہوں، ایم کیو ایم اپنے معاملات سنبھال لے گی، سیاسی جماعتیں جمہوریت کا ہراول دستہ ہیں، پچھلے 7ماہ سے کچھ معاملات پر میں دل گرفتہ ہوا، میں نے نواز شریف کے بطور وزیراعظم دور میں ان کو کچھ مشورے دیئے کہ پارٹی معاملات کو کیسے بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پانامہ معاملے پر کچھ تجاویز دیں سپریم کورٹ کے بارے میں میرا یہ کہنا کہ ہم ان سے لڑائی نہیں چاہتے یہ میرا اکیلے کا کہنا نہیں تھا بلکہ شاہد خاقان عباسی کا بھی یہ ہی موقف ہے، میں نے کبھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی، پارٹی میں بحث کو فوقیت دینی چاہیے، پارٹی کو چلانے کے حوالے سے میرے کچھ خدشات اور تحفظات ہیں۔ چوہدری نثار نے کہا کہ نواز شریف نے میرے مشوروں پر توجہ نہیں دی، میں نے بہت سی چیزوں کو برداشت کیا اور سائیڈ پر ہونے کا فیصلہ کیا۔ سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر الزام جھوٹا ہے اس کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے، میں نے کب میاں نواز شریف اور مریم نواز پر تنقید کی، میں بچوں کے نیچے تو سیاست نہیں کر سکتا، مجھ سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ نواز شریف اور شہباز شریف کے ماتحت کام کر سکتے ہیں میں نے کہاں ہاں کر سکتا ہوں، پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ مریم نواز کے ماتحت کام کر سکتے ہیں تو میں نے کہا کہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے عہدے کیلئے نامزدگی الیکشن کے بعد ممکن ہے، میں نے میاں نواز شریف کو خط لکھا کہ پارٹی کے معاملات پارٹی میں حل کئے جائیں اور کمیٹی کا اجلاس بلائیں تا کہ میں اپنا موقف پیش کر سکوں، ایک شخصیت جو 1990کی دہائی میں پارٹی میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پارٹی سے الگ کیا جانا چاہیے، اگر یہ معاملات پارٹی میں حل ہوتے ہیں تو اچھی بات ہے اگر ایسا نہیں ہوتا تو میں معاملات عوام کے سامنے لائوں گا،ایک ڈان لیکس کا معاملہ ہے، ان شخصیت کا کہنا ہے کہ میں نے ان کو ڈان لیکس پر نکلوایا، میرا سوال ہے کہ سوا سال بعد ڈان لیکس پر جواب کیوں آیا، ان کا خیال تھا کہ میں نے انہیں نکلوایا ہے، رپورٹ میں طارق فاطمی کا ذکر نہ تھا ان کو کس نے نکالا؟۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میں نے کبھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی، ڈان لیکس کے حوالے سے وضاحت آنی چاہیے، اگر پارٹی اس معاملے پر وضاحت نہیں دیتی تو اس معاملے کی عوامی لیول پر تشہیر کا آپشن میرے پاس ہے، الیکشن نہ لڑنے والا سیاستدان نہیں ہو سکتا، وہ خوشامدی،ٹیکنوکریٹ ہو سکتا ہے، ٹکٹ کا فیصلہ پارٹی کا پارلیمانی بورڈ کرتا ہے، ٹکٹ دینے کے فیصلے قانونی اور آئینی طریقے سے ہوتے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ میں میاں نواز شریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے حوالے سے بات نہیں کرتا، معاملات پارٹی میں حل ہوتے ہیں، میں اب پارٹی کے باہر بھی سیاسی طور پر متحرک ہوں گا، پاکستان کا معاشرہ تنزلی کا شکار ہے، گالم گلوچ معمول بن گیا ہے، میڈیا بھی اس کا ذمہ دار ہے باوجود میڈیا کے مثبت پہلوئوں کے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی انقلاب ذوالفقار علی بھٹو لائے اور دوسرا میڈیا نے عوام کو شعور دیا، میڈیا میں ریٹنگ کیلئے گالی گلوچ اور برا بھلا کہنا وطیرہ بن گیا ہے، میڈیا کا کام فیصلے صادر کرنا نہیں، آج میڈیا تقسیم ہو چکا ہے، اس سے میڈیا کو نقصان ہو گا، اگر میڈیا میں سیاست شروع ہو گئی تو یہ اچھا نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سنجیدہ حضرات خواہ وہ کسی ادارے میں بھی ہوں ہمیں اس تنزلی کو روکنا اور بہتری کیلئے اقدامات کرنے ہیں، ہمیں اپنے آپ کو بہتر بنانا ہے، ہم سیاستدان اپنے آپ کو سیاستدان کہلواتے ہیں جبکہ دوسروں کو چور اور ڈاکو قرار دلواتے ہیں، سیاسی جماعتوں میں جمہوریت قانون کا احترام اور ووٹ کا تقدس پہلے ہونا چاہیے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ میں کبھی کسی فارورڈ بلاک کا حصہ نہیں بنوں گا، میں سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے انتظار میں ہوں تا کہ وہاں معاملات حل کئے جا سکیں، میڈیا کے ذریعے اداروں پر حملے ہو رہے ہیں، مشکلات کا حل صرف اور صرف مشاورت ہے۔پریس کانفرنس کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے تنظیمی بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا کہ ‘ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت ہے، کسی جماعت میں اس طرح کی توڑ پھوڑ سے تشویش ہوتی ہے اور امید ہے کہ ایم کیو ایم معاملات خود حل کرلے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں