نئے کھلاڑیوں کو اسٹارز بننے میں وقت لگے گا،نجم سیٹھی

لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ دورہ نیو زی لینڈ کے دوران ون ڈے سیریز میں ٹیم کی شکست کی وجوہ کا صحیح تعین کوچ اور مینجر کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جا سکے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دورہ نیوزی لینڈ میں ناکامیوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور ٹیم انتظامیہ کی رپورٹ ملنے کے بعد ہی صورتحال کا درست تجزیہ کیا جاسکے گا۔یک سوال پر نجم سیٹھی نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہماری ٹیم بہتر ہے جبکہ پاکستان سپر لیگ نے پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کےلئے تیار کر دیا ہے تاہم ون ڈے کرکٹ میں ہم کمزور ہیں کیونکہ نئے آنے والے کھلاڑیوں کواسٹارز بننے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پرانے اسٹار کھلاڑی اب بوڑھے ہو رہے ہیںاور ان کی جگہ لینے کےلئے ہمیں نئے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔ اب ہمارا تمام تر دھیان ورلڈ کپ پر ہے اور اسی کو مدنظر رکھ کر تیاری کر رہے ہیں۔چیئر مین پی سی بی کا کہنا تھا کہ مڈل آرڈر میں ہمیں متبادل کھلاڑی مل گئے ہیں۔ انہیں میچور ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا مگر مجھے امید ہے کہ بہت جلد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ اس سوال پر کہ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی ٹیم بظاہر دورِ حاضر کی کرکٹ میں پیچھے رہ گئی ہے؟حالیہ دورہ نیوزی لینڈ میں پاکستان5 میچوں کی سیریز میں ایک بھی میچ نہیں جیت پایا تھا جبکہ یہ چیمپیئنز ٹرافی جیتنے کے بعد ایک روزہ کرکٹ میں ٹیم کا پہلا امتحان بھی تھا۔نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ اب معاملات بہتر ہو جائیں گے، ہمارے پاس ماڈرن کوچز ہیں، اچھے کھلاڑی ہیں ہم ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر رہ چکے ہیں اور ٹی ٹوئنٹی میں پھر پہلے نمبر پر آگئے ۔ون ڈے کے حوالے سے بھی پر امید ہیں اور بہتری کی کوششیں جاری ہیں، اسکول اور کلب کرکٹ سے لے کر پی ایس ایل کے فرنچائزز کے ذریعے ٹیلنٹ تلاش کرنے اور دیگر ریفارمز کے ذریعے آئندہ 2برس کے دوران پاکستان میں کرکٹ کا نقشہ بدل جائے گا۔ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی مکمل بحالی کے بارے میں انہوں نے کہا آئندہ2برس میں ہم اس قابل ہو جائیں گے کہ ملک میں مکمل سیریز کی میزبانی کی جاسکے اور زیادہ سے زیادہ2برس میں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ مکمل طور پر بحال ہو جائے گی۔ا سپاٹ فکسنگ کی روک تھام کےلئے اقدامات سے متعلق نجم سیٹھی نے کہا کہ ہم دہ بنیادی اور ضروری اقدام یقینی بنا رہے ہیں۔ ایک انتہائی مستعدی سے نگرانی اور دوسرامعافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ دوسرے ایڈیشن کے دوران پکڑے جانے والوں کے خلاف کارروائی بھی اس کا واضح ثبوت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں