ایٹمی دھماکوں کے تابکار فضلے بحر الکاہل میں داخل ہونے لگے

اینیویٹاکاٹول…. ایٹمی دھماکوں کے تابکار فضلے بحر الکاہل میں داخل ہونے لگے ہیں اور اطلاعات کے مطابق امریکی فوج کا بنایا ہوا کنکریٹ ڈوم پانی میں ڈوبتا جارہا ہے۔ واضح ہو کہ یہ علاقہ 1948ءسے 1958ءتک امریکی ہتھیاروں کے تجربات اور آزمائشی استعمال کے لئے کام میں آتا رہا ہے۔ تاہم جب یہ کام بند ہوگیا تو 8ہزار سے زیادہ افراد اس علاقے کی صفائی پر مامور کئے گئے جنہوں نے ایک لاکھ10ہزار مربع گز آلودہ مٹی اور فضلہ امریکی فوج کے بنائے ہوئے ساحلی ڈوم میں منتقل کیا۔ امریکی فوج نے اس ڈوم کو کنکریٹ کی مدد سے بہت مضبوط اور مستحکم بنایا تھا۔ مگر اب تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ جیسے جیسے سمندر میں پانی کی سطح اونچی ہوتی جارہی ہے بحر الکاہل میں تابکاری کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور تابکار فضلہ اس ڈوم میں داخل ہوتا جارہا ہے ۔ مجموعی طور پر یہ جوہری فضلہ 43جوہری تجربات کے نتیجے میں نکلا تھا۔ اس علاقے کو امریکی حکومت نے 30میگا ٹن ایٹمی ہتھیاروں کو ٹیسٹ کرنے کیلئے استعمال کیا تھا ۔ جو ہیروشیما پر گرائے جانے والے بم جیسے2ہزار بموں کی طاقت کے برابر ہے۔ یہ ڈوم 30فٹ گہرائی میں بنا تھا ۔ اسکی چار دیواری 16انچ موٹی تھی اورچوڑائی 350فٹ کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں