کشمیر کاز ، ”قول و فعل” کے تضاد کی المناک صورتحال!

گزشتہ اتوار مقبوضہ کشمیر کے جنوبی علاقے کے ضلع اننت ناگ(اسلام آباد) کے تین دیہاتوںمیں فریڈم فائٹرز کے خلاف بھارتی فوج کے آپریشن اور مظاہرین پر بھارتی فورسز کی فائرنگ سے بیس سے زائد کشمیری ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے۔اس واقعہ میں بھارتی فوج کی طرف سے اسرائیل کے فراہم کردہ آگ لگانے والے کیمیائی ہتھیار کا بھی استعمال کیا گیا۔اس واقعہ پر مقبوضہ کشمیر کے تمام علاقوں میں لوگ گھروں سے باہر آگئے اور انہوں نے بھارت کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور بھارتی فورسز پر پتھرائو کیا۔ حریت قیادت کی اپیل پر اس واقعہ کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں تین دن کی مکمل ہڑتال رہی۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک بیان میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ظلم اور جبر سے حق خود ارادیت کی جدوجہد کو روکنا ممکن نہیں، عوام کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جاسکتا،بھارت اقوام متحدہ کے فیکٹس فائنڈنگ مشن کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دے ،یو این سیکرٹری جنرل کشمیر کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کریں۔ بھارت منفی ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کی آواز کو نہیں دبا سکتا۔پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو مظالم کے ذریعے نہیں دبا سکتا ،کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر بلااشتعال بھارتی فائرنگ سے معصوم شہری نشانہ بن رہے ہیں، شہری آبادی کو نشانہ بنانا وحشیانہ عمل ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے نہتے عوام پر مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے ذریعے وہاں کے عوام کے حق خود ارادیت کی جاری سیاسی جدوجہد کو دبا نہیں سکتا۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدار ت پیر کو وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں وزیر ِ خارجہ خواجہ محمد آصف نے مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی اور عالمی حمایت کے حصول کیلئے کوششوں سے آگاہ کیا۔ اجلاس میںکشمیری شہداکے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔اجلاس میں بھارتی فوج کے کشمیریوں کے قتل عام کو عالمی دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کیلئے بیرون ملک پاکستان سفارت خانوں کو خطوط لکھنے اور 6اپریل کو پاکستان میں ” یوم یکجہتی کشمیر” منانے کا فیصلہ کیا گیا۔کشمیریوں کے خلاف بھارت کی ظالمانہ فوج کشی کے اس نئے واقعہ کے خلاف وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی اپیل پر پیر کو بھارت کے خلا ف یوم احتجاج منایا گیا اور اس حوالے سے آزاد کشمیر کے ہرعلاقے اور اسلام آباد میں مختلف مظاہرے کئے گئے۔بد ھ کو وزیر اعظم پاکستان نے اپنی کابینہ کے چند ارکان کے ساتھ مظفر آباد کا دورہ کیا،آزاد کشمیر اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی اور حریت نمائندگان(پاکستان) کے وفد سے ملاقات کی۔
جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں حسن نثار نے کہا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کو اپنے مسئلے کے بجائے انسانی المیہ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے، پاکستان کشمیر کا مقدمہ بہتر انداز میں پیش کرنے کیلئے دنیا بھر میں اپنے سفارتخانوں کو سرگرم کرے، پاکستانی سفارتخانے دنیا بھر میں پاکستانیوں کو آمادہ کرے کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ مل کر پرامن احتجاج کریں، سوشل میڈیا پر بھونڈے نہیں بھرپور طریقے سے پیش کیا جائے۔شہزاد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کشمیریوں پر بھارتی مظالم اجاگر کرنے کیلئے عالمی پلیٹ فارمز استعمال کرنے چاہئیں، پاکستان کا بنیادی نقطہ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ انضمام یا آزادی نہیں بلکہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم ہونے چاہئیں، پاکستان اپنی جرم ضعیفی کی سزا پارہا ہے، ہماری ریاست اور معیشت اس قدر کمزور کردی گئی ہے کہ پاکستان خطے میں بھی غیرمتعلق ہوتا جارہا ہے، پاکستان اندرونی استحکام حاصل کرنے کے بعد دنیا میں اپنا پیغام لے کر جائے گا تب ہی اسے سنا جائے گا، مسئلہ کشمیر کو انڈیا اور پاکستان بیٹھ کر حل نہیں کرسکتے اس کیلئے عالمی ثالثی کی ضرورت ہے۔حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ پاکستان کو کشمیریوں پر بھارتی مظالم کیخلاف فوری طور پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں جانا چاہئے، پاکستانی قیادت پر انتہائی افسوس ہے۔امتیاز عالم نے کہا کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت اور ان پر ہونے والے مظالم کی مذمت اور بھارت کی ہندوتوا فاشزم کا پردہ چاک کرنا چاہتا ہوں ،ہم جمہوریت پسند لوگ ہر قوم کے حق خود ارادیت کے حامی ہیں، کشمیر کی آزادی کیلئے میڈیا کی آزادی ضروری ہے۔ مظہر عباس نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر کے مضبوط مقدمہ کو مضبوط وکیل کے طور پر دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا، پاکستان کشمیر کا مقدمہ دنیا کے سامنے لے کر جاتا ہی نہیں ہے، پچھلے چالیس سال سے کشمیر کمیٹی بنی ہوئی لیکن اس کی کوئی کارکردگی نہیں ہے، اگر پاکستان صحیح معنوں میں کشمیر کا مقدمہ لڑتا تو آج کم از کم آدھی دنیا ہماری ہمنوا ہوتی، کشمیرکے مسئلہ کو انسانوں پر بربریت کا ایشو بنانا چاہئے۔افتخار احمد کا کہنا تھا کہ ریاست کے ساتھ ہمیں انفرادی طور پر بھی کشمیر یوں کی آواز اٹھانا ہوگی۔
مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے خلاف بھارت کی فوج کشی کے اس نئے واقعہ پرپاکستان کے سول و فوجی حکام کی بیانات میں بتایا گیا کہ بھارت کتنے بھی ظلم کر لے لیکن کشمیری ہار نہیں مانیں گے،مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی صورتحال بیان کی گئی اور عالمی اداروں سے نوٹس لینے کی اپیل کی گئی۔پاکستان کے سول و فوجی حکام نے درست کہا کہ بھارت کا کوئی بھی ظلم کشمیریوں کو بھارت کے خلاف جدوجہد آزادی سے روک نہیں سکتا، بھارت کے خلاف کشمیریوں کی نسل در نسل جدوجہد اور قربانیاں اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ اگر یہ بیان بھی جاری ہو سکے کہ پاکستان سلامتی کونسل سمیت تمام عالمی اداروں میں مسئلہ کشمیر پرزور طور پر اٹھائے گا ،تو کشمیریوں اور پاکستانی عوام کے لئے تقویت کا باعث ہو سکتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ ،پرامن حل میں کسی پیش رفت کی توقع کی جا سکتی ہے۔بھارت تو دشمن ہے اور وہ کشمیریوں کے مطالبہ آزادی کو کچلنے کے لئے ہر ممکن طاقت اور حربے استعمال کر رہا ہے۔کیا ہم محض مذمت اور میڈیا میں کشمیر کا بلیک آئوٹ کرتے ہوئے پاکستان کے اندر مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی تکرار میں ہی محدود رہیں گے؟
کشمیر سے متعلق پاکستان کی پالیسی کیا ہے،حکمت عملی کیا ہے اور انداز برتائو کیا ہے؟ اس متعلق بہت کچھ کہا جا سکتا ہے اور کہا جانا چاہئے۔یہی وہ بنیادی موضوع ہے جس پر بات کرتے ہوئے،اصلاح کی کوشش سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں اور کشمیر کاز سے اخلاص کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔بالخصوص گزشتہ چالیس سال سے ہم سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستانی سفارت خانوں کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے متحرک کیا جائے لیکن نامعلوم اپنے ہی سفارت خانوں کو متحرک کرنے میں کونسی طاقت درکار ہے کہ یہ ضرورت پوری ہوتی ہی نہیں اور بار بار اس کا مطالبہ سننے میں آتا رہتا ہے۔مختصر یہ کہ کشمیر کاز سے متعلق پاکستان میں ” قول و فعل” کے تضاد پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بھارت کے بدترین مظالم کا مسلسل نشانہ بننے والے کشمیریوں کی مظلومیت ،بے چارگی تو ایک طرف ،پاکستان کی طرف سے کشمیر سے متعلق پاکستان کے وسیع تر مفادات کو نظر انداز کئے جانے کی صورتحال بھی ایسے بدترین نتائج کا موجب ہو سکتی ہے جسے نا تو کشمیریوں اور نا ہی پاکستان کے وسیع تر مفاد میں قرار دیا جا سکتا ہے۔ اطہر مسعود وانی

اپنا تبصرہ بھیجیں