اینج نئیں کری دا

باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری
کشمیر کے ایک معتبر اخبار میں جناب فاروق حیدر کا پیشانی پر چھپا بیان پڑھا فرما رہے تھے کہ میں عمران کا پاکستان نہیں مانتا مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا اسکول جاتے وقت میں نے بھی پیالے توڑے تھے میں نئی جاناں اسکول اور اسکول جانا ہی پڑا۔حضور لگتا ہے آپ کو رائے ونڈی چابی نے مجبور کیا کہ اس قسم کی بات کرتے ہیں۔پنجابی میں کہتے ہیں بیبا اینج نئیں کری دا
کہتے ہیں جن جاتے وقت نشانی دے کر جاتا ہے جس کے اندر سے نکلتا ہے اس کی دیوار توڑ کر جاتا ہے۔ایسا نہ کریں سر۔کدی اپوزیشن وی کر کے ویخ لئو۔
تو حضور عمران خان کے پاکستان میں آپ نے نہیں رہنا۔پہلی بات ہے یہ ملک عزیز جناب اکرام اللہ خان نیازی نے نہیں بنایا تھا کہ آپ روٹھ کر بابے شریف کے پاکستان میں چلے جائیں گے اس کی بنیادوں میں ہے تیرا لہو میرا لہو یقین نہیں تو تاریخ پڑھ کر دیکھ لیجئے۔مجھے آج وہ گول مٹول سا پنجابی کا بہترین ڈیبیٹر یاد آ گیا جو یونیورسٹی لاء کالج کے ایک پنجابی مباحثے میں کسی کی نظم پڑھ رہا تھا چھڈ دے چوڑے والئے کڑئیے چھڈ دے لیکھاں بھاگاں بھرئیے چھڈ دے چھڈ دے میرں باں میں نئیں رہناں ایس گراں یہ مقرر اکرم شیخ تھے۔کیوں جی حضور راجہ فاروق حیدر صاحب کس پاکستان میںرہنا ہے آپ کو نواز شریف کے پاکستان میں چلیئے آپ کو اس کا پاکستان دکھاتے ہیں یہ واہگہ بارڈر کے پار ایک تقریب کا احوال ہے جو سیفما نے منعقد کی جس کی صدارت ممتاز معروف صحافی امتیاز عالم کر رہے تھے موصوف نے سکھوں کے مجمعے میں کھڑے ہو کر کہا جناب ہم بھی اسی رب کو پوجتے ہیں جسے آپ پوجتے ہیں آپ کو بھی آلو گوشت پسند ہے اور مجھے بھی۔بس درمیان میں ایک لکیر ہے بس ایک لکیر۔مر گئے وہ لوگ جو اس قسم کی یاوہ گوئی پر چیخ اٹھے تھے جناب مجید نظامی نے انہیں روکا بھی اور ٹوکا بھی۔فاروق حیدر صاحب اللہ بھلا کرے آپ کا کیوں ناراض ہیں کیوں اس قسم کی باتیں کرتے ہیں اسمبلی توڑنی ہے تو توڑ دیں لیکن اس پاکستان سے نفرت تو نہ کریں اگر عمران خان پاکستان کے عوام کا نمائیندہ بن کر آتے ہیں تو آپ کو بھی تسلیم کرنا چاہئے ویسے بھی وہ فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر نہیں آ رہے اور نہ ہی کوئی ڈکٹیٹر اپنی عمر بھی انہیں دے دینے کی بات کرتا ہے۔آپ بھلے سے نون لیگ کے نعرہ زن دستے میں شامل رہیں لیکن یہ کام تو نہ کریں ۔نواز شریف ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتے ہیں اگر ووٹ سے کوئی سینیٹ کا چیئرمین بن جائے تو آپ کے وزیر اعظم اسے ادھر نہیں مانتے اور آپ ادھر کشمیر میں نہیں مانتے۔گویا آپ کو وزیر اعظم وہ پسند ہے جو آپ کے چہیتے نواز شریف کی صورت میں ہو۔حضور دودھ میں تخم ملنگاں ڈال کر پیا کریں اس بار تو اشفاق ظفر نے بھی آپ کی دھلائی کرنی ہے۔پہلے چند سو ووٹوں کی وجہ سے اس کی ہار کا بھی آپ کو علم ہو گا گھر کے چراغ سے آگ لگی اور آپ اسمبلی میں آ گئے۔ووٹ کی عزت اور توقیر یہی ہے کہ اگر قوم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان کو چنتی ہے تو آپ بھی اسے تسلیم کریںویسے بھی سادہ سا گجر ہوں ہم کہا کرتے ہیں کہ ناں ماننے والوں سے جیلیں بھری پڑی ہیں اللہ نہ کرے آپ پر وہ دن آئیں لیکن وفاق پاکستان کو نہ مانا ایک جرم ہے اور جرم بولتا ہے مگر سلاخوں کے پیچھے سے۔
آپ ہمارے محترم ہیں آپ سے یاد اللہ بھی ہے اور دوستوں کے دوست ہیں لیکن آپ کو سمجھائے کون آپ کے مربی ایک بار مسعود ملک کے ہوتے ہوئے مدینہ منورہ میں کھانے کی میز پر مجھے مخطاب ہو کر کہنے لگے چودھری صاحب اس ۔۔۔۔کی چوک میں پینٹ اتار کر دھلائی کرنی چاہئے میں نے کہا حضور بریکوں پر پائوں رکھیں ایک حوالدار مان نہیں آپ پورے ادارے کے بارے میں یہ بات نہ کریں لڑائی ایک دو کرپٹ جرنیلوں سے ہے انہی سے کیجئے یہ ان کی خود اختیار کردہ جلا وطنی کے دن تھے اس بات کو اس وقت شہباز شریف نے بھی سراہا ہم تو آپ کے ہیرو کو سمجھاتے رہے۔کہتے ہیں بڈھے گجر دیاں گلاں دا سواد تے لسوڑے دی کڑہی دا مزہ بعد میں آتا ہے۔اب کریں مزہ۔دنیا میں سب سے کریہہ آواز گدھے کی ہے مجھے کیوں نکالا کی آواز آپ کے سامنے ہے۔یار حد ہوتی ہے عدالتوں کو گالی فوج کو گالی اتنی گالیاں تو انڈین میڈیا بھی نہیں دیتا جتنیآپ کے محسن دے رہے ہیں اور دیتے چلے آ رہے ہیں۔مت کیجئے حضور آپ سے پاکستان کے لوگ اتنا پیار کرتے ہیں جیسے ننھیال میں دوہتروانوں سے کیا جاتا ہے آپ ہیں کہ پاکستان کی داڑھی نوچنے سے باز نہیں آتے۔آخر کیا بگاڑا ہے عمران خان نے آپ کا ۔راجہ صاحب راجہ بنیں راجہ جس کی اپنی سوچ ہوتی ہے اور اپنے خیالات ہوتے ہیں۔ہم گجروں میں جنہیں راج پاٹ ملا وہ راجے کہلوائے جیسے راجہ طارق کالس گجر چکوالے راجہ کہلوائے کہ کالس اسٹیٹ ملی ہیں تو آپ اپنے ہی اور ہم تو احسان فراموش لوگ نہیں آپ ہمارے لاڈلے ہیں اور ہمیں آپ سے پیار ہے اس لئے کہ آپ اس خطے سے تعلق رکھتے ہیں جسے چودھری رحمت علی نے مکمل پاکستان میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا تھا ان کا کہنا تھا پاکستان کو دریائوں کو سوتے لازما لینا ہے ورنہ چانکیہ کے شاگرد آپ کو بوند بوند ترسائیں گے یہ لوگ آپ کی مساجد تباہ کریں گے آپ کو جبرا ہندو بنائیں گے۔ہوئی نہ وہی بات اب ضناب ضیاء شاہد چیختے ہیں قوم باں باں کر رہی ہے۔حضرت اندر رہ کر ضرور لڑئے لیکن ووٹ کا احترام کیجئے عمران کا پاکستان قائد اعظم کا پاکستان ہے جہاں حق اور انصاف کی بولا بالا ہو گا آپ کشمیریوں سے بھی انصاف ہو گا آپ کا وقار بھی بلند ہو گا۔ہمیں یہ علم ہے کہ لوگ آپ سے جھوٹ بولتے رہے کیا آپ بھٹو کا پاکستان چاہتے ہیں جس نے ہزار سال لڑنے کی بات کی اور اس کے چیلے چانٹے زرداری کے قدموں میں بیٹھ گئے کیا نواز شریف کا پاکستان چلے گا؟جو دو قومی نظرئیے کا سب سے بڑا دشمن بنا پھرتا ہے۔جی آپ کی خواہش ہو گی کہ ایسا پاکستان ہو جس میں سب کو اپنا اپنا حق ملے تو میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں عمران کا پاکستان قائد اعظم کا پاکستان ہو گا۔اقبال کا پاکستان ہو گا اور نقاش پاکستان چودھری رحمت علی کا پاکستان ہو گا۔
سچی بات ہے حالات نے ہمیں پھنڈ کے رکھ دیا ہے ہم وہ نہیں رہے جو ستر کی دہائی میں تھے ہمیں لوٹ کے کھا گئے خون چوس لیا ان بھیڑیوں نے مارے گئے آپ بھی اور ہم بھی اعتزاز احسن نے کیا خوب شعر سنایا تھا ۔ لای اکھیاں دیاں پئی دسدی اے روئے تسی وہ روئے اسی وی آں لٹن والیاں نے سانوں خوب لٹیا موئے تسی وی او موئے اسی وی آں شوپیاں میں کیا ہوا اور آئے روز کشمیر کے بیٹوں کو بلی چڑھیا جا رہا ہے آئے روز خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے ہمارا اور آپ کا مشترکہ دشمن بھارت ہے توپوں کا رخ ادھر موڑئے سانوں معاف کرو۔
میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں عمران خان جب وزیر اعظم بنے تو کشمیر کے لوگوں کی باگیں اسلام آباد نہیں ہوں گی قومی وحدت کے تحفظ کے علاوہ سب کچھ آپ کا ہو گا۔آپ اسلام آباد کے باجگزار نہیں ہوں گے کشمیر کے بیٹے اپنی ماں دھرتی کو چھوڑ کر بیرون ملک ذلیل و خوار نہیں ہوں گے ۔روٹی ہو گی سوکھی سہی آپ کو بھی ملے گی اور ہم بھی کھائیں گے۔آپ کی ان شعلہ بیانیوں نے آپ کو ایک غیر معتدل سا راہنما بنا کے رکھ دیا ہے لوگ کہتے ہیں کہ کالج کے ایک کھلنڈرے مقرر کے ہاتھ حکومت دے دی گئی ہے۔آپ جانتے ہیں آپ کیسے جیتے بھڈانوی کیسے ہارے مطلوب انقابی کو شکست کیسے ہوئی بیرسٹر کے ساتھ کیا ہوا ہم جانتے ہیں کہ ریچھ نے کیک کیسے بانٹا؟ویلے لنگ گئے توبہ والے ایہ باتں ہن کرن دیاں نئیں کج شہر دے لوک وی ظالم سن کج سانوں مرن دا شوق وی سی۔یہ شوق پھر کبی پھر کسی اور جگہ پورا کر لینا سر جی
شکر ہے مفت بھری کا جموں کشمیر ملا سجناں کولوں دھوں وی ملے تے عنبر دی خوشبو ہونا اے اس اخبار کی شہ سرخی یہ ہے عمران خان کے پاکستان کو میں نہیں مانتا میں اسمبلی توڑ دوں گا۔مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا اسکول جاتے وقت میں نے بھی پیالے توڑے تھے میں نئی جاں اسکول اور اسکول جانا ہی پڑا۔حضور لگتا ہے آپ کو رائے ونڈی چابی نے مجبور کیا کہ اس قسم کی بات کرتے ہیں۔پنجابی میں کہتے ہیں بیبا اینج نئیں کری دا

اپنا تبصرہ بھیجیں